عشقِ حدود | قسط 8 | ایک نئی صبح… ہنسی کی گرماہٹ | Urdu Novel

 


استنبول کی صبح…

آج سورج کچھ زیادہ ہی روشن لگ رہا تھا…

شاید اس لیے کہ تین گھروں میں…

محبت کے ساتھ ہنسی بھی جاگ چکی تھی 😄✨

🌿 امیر کایا اور حوریصبح کی نرم روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں داخل ہو رہی تھی… 


آیان کی آنکھ کھلی…

کمرے میں سکون تھا…


اس نے آہستہ سے سر موڑا…

اور ساتھ والی جگہ کی طرف دیکھا—


بستر خالی تھا۔


“علیزہ…؟”


وہ ہلکا سا چونکا…

پھر فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔


کمرے میں نظر دوڑائی…

مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔


اب اس کے چہرے پر ہلکی سی پریشانی آ گئی…


وہ جلدی سے باہر نکلا—



---


ہلکی سی آواز آ رہی تھی…

جیسے کوئی آہستہ آہستہ بات کر رہا ہو…


آیان اس سمت بڑھا…


اور جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچا—

اس نے جو منظر دیکھا…


اس کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی 



---


سامنے…


علیزہ بیٹھی تھی…

ایک cute سی teddy bear dress پہنے ہوئے 🧸✨


بال ہلکے سے بکھرے ہوئے…

اور سامنے اپنی doll رکھے اس سے باتیں کر رہی تھی 



---


“دیکھو doll…”


وہ معصومیت سے بول رہی تھی…


“تمہیں پتا ہے میری life پہلے کیسی تھی؟

میں بھی تمہاری طرح happy تھی…”


اس نے ہلکا سا مسکرا کر doll کو سیدھا کیا…


“ماما بابا کے ساتھ… میں بہت ہنستی تھی…”


پھر اس کی آواز تھوڑی سی دھیمی ہو گئی…


“پھر جب وہ چلے گئے…”


چند لمحے رک کر…


“تو تائی جان کے ظلم نے… مجھے خاموش کر دیا…”



---


پھر اچانک وہ خود ہی مسکرا دی 


“لیکن اب دیکھو…”


“میرے hubby jani کتنے اچھے ہیں… ماشاءاللہ 💛”


“اگر میرے پاس بہت سارے پیسے ہوتے نا…

تو میں ان کا صدقہ دیتی…”



---


آیان دروازے پر کھڑا…

یہ سب سنتا رہا…


اور اس کے چہرے پر ایک نرم، دل سے نکلی مسکراہٹ تھی…



---


وہ ہلکا سا کھنکارا—


“اہم… اہم…”



---


علیزہ چونک گئی 


“اوہ!”


“آپ کب آئے؟!”



---


آیان اندر آتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا 


“کافی دیر سے…”


“لیکن لگتا ہے تمہیں تو بس doll سے ہی بات کرنی ہے…”



---


علیزہ نے فوراً doll کو پکڑا 


“نہیں جی… یہ important discussion تھا!”



---


آیان نے ہنستے ہوئے کہا،

“اچھا؟ تو مجھے بھی شامل کر لو اس meeting میں”



---


اسی دوران…


آیان کی نظر ساتھ پڑے چھوٹے toy kitchen set پر گئی…


جس میں ایک کپ میں پانی رکھا تھا 



---


اس نے eyebrow اٹھائی 😏


“یہ کیا ہے؟”



---


علیزہ فوراً بولی 😄


“وہ… doll کو پانی دینا تھا…”


پھر خود ہی ہنس دی 


“لیکن میں بھول گئی…”

Flashback madam Alizeh g subh subh apni doll k liyay Pani la Rahi theen k achanak unse Pani gir gya Inka manna tha k Pani usko de aoon Baad me saaf krloongi inki Nazar me doll bohot pyasi thi 🙊🙊🙊or phr woh Pani uthana Bhool gaeen



---



Ayan Sahab to bss apni masoom biwi pr qurban ja rahy thy 

---

Ayan ne kaha alizeh nashta kia? 

علیزہ نے معصوم سا face بنایا 


Nahi hubby jani

---


آیان نے سر ہلایا… مگر alizeh ko kaha ainda JB bhi utho subh doodh ka glass must hai ok Baki beshk nashta Apne hubbby jani k Sath Karna ok?

---


علیزہ نے فوراً کہا 

“hubby jani… آپ مجھے ڈانٹ نہیں سکتے!”



---


“کیوں؟”



---


“کیونکہ میں cute ہوں ”



---


ایک لمحے کے لیے خ

اموشی…


پھر آیان ہنس پڑا 


“یہ logic تو خطرناک ہے”



---


علیزہ بھی ہنس دی 


اور وہ لمحہ…


ہنسی، معصومیت…

اور نئی محبت کی مٹھاس سے بھر گیا 



---


✨ جاری ہے…


اگے کیا ہوگا؟

کیا علیزہ کی شرارتیں بڑھیں گی؟ 

یا آیان واقعی اسے “punishment” دے گا؟ 


جاننے کے لیے… اگلی قسط کا انتظار کریں… 




Comments

Trending Stories

عشقِ حدود | قسط 7 | ایک پاک بندھن… ایک نئی شروعات | Urdu Novel

عشقِ حدود | قسط 4 | ایک نیا سفر، ایک انجان منزل | Urdu Novel

عشقِ حدود | قسط 3 | ایک انتخاب… ایک آغاز | Urdu Novel

عشقِ حدود | قسط 5 | ایک فیصلہ، ایک نیا رشتہ | Urdu Novel