عشقِ حدود | قسط 3 | ایک انتخاب… ایک آغاز | Urdu Novel
ڈرائنگ روم کی فضا میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا…
جیسے ہر سانس کسی جواب کا انتظار کر رہی ہو۔
ناظیہ بیگم نے دونوں بہنوں کو غور سے دیکھا… پھر نرم لہجے میں بولیں،
“دونوں بچیاں ماشاءاللہ بہت سلیقہ مند ہیں… مگر ہمیں سارا پسند ہے”
یہ سن کر سارا کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رک سی گئی۔
علیزہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا…
اس کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی تسلی تھی۔
مگر اگلے ہی لمحے ناظیہ بیگم نے وہ بات کہی جس نے ماحول کو مزید سنجیدہ بنا دیا—
“لیکن… ہم سارا کی رضا مندی بھی جاننا چاہیں گے”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
سب کی نظریں سارا کی طرف اٹھ گئیں۔
سارا نے آہستہ سے سر اٹھایا…
اس کی نگاہ ایک لمحے کو اپنی تائی—رابعہ بیگم—پر پڑی۔
رابعہ بیگم کی نظریں سخت ضرور تھیں…
مگر اسی لمحے سارا کے دل میں ایک اور خیال بھی ابھرا—
“شاید یہ رشتہ برا نہیں… اور وجدان کا انداز بھی نرم ہے…”
اس نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں…
جیسے اپنے دل کو سنبھال رہی ہو۔
پھر دھیمی آواز میں بولی،
“ج… جی”
اس کی آواز میں جھجھک ضرور تھی…
مگر اس بار اس کے دل میں ایک نرم سی رضا بھی شامل تھی۔
نکاح کی تاریخ ایک ہفتے بعد طے ہو گئی۔
اور وہ ہفتہ… جیسے پلک جھپکتے گزر گیا۔
نکاح کے دن گھر میں ایک سادہ سی رونق تھی۔
سارا ہلکے رنگ کے لباس میں بیٹھی تھی…
چہرے پر گھبراہٹ صاف دکھائی دے رہی تھی۔
علیزہ اس کے پاس آئی،
“سب ٹھیک ہو جائے گا…”
سارا نے ہلکی سی مسکراہٹ دی…
مگر اس کے ہاتھ اب بھی ٹھنڈے تھے۔
نکاح کا وقت آیا…
قاضی صاحب نے سارا سے پوچھا،
“آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
سارا نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں…
اور اس کے ذہن میں وجدان کا وہ پرسکون لہجہ گونجا…
پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا،
“قبول ہے”
دوسری طرف وجدان نے بھی نہایت سنجیدگی سے یہی الفاظ دہرائے۔
اور یوں… ایک نیا رشتہ قائم ہو گیا۔
نکاح کے بعد کا ماحول پہلے سے ہلکا تھا…
مبارکبادیں، دعائیں… اور ایک نرم سی خوشی۔
اسی دوران…
ناظیہ بیگم نے نرمی سے کہا،
“اگر اجازت ہو تو وجدان اور سارا کچھ دیر بات کر لیں… صرف سمجھنے کے لیے”
یہ بات باادب انداز میں کی گئی تھی…
اور سب کی موجودگی میں ہی مناسب فاصلے پر جگہ دے دی گئی۔
سارا دل تھامے بیٹھی تھی…
وجدان اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا…
نظریں جھکی ہوئی… انداز نہایت مہذب۔
چند لمحے خاموشی رہی…
پھر وجدان نے ہلکے سے کہا،
“آپ… ڈری ہوئی لگ رہی ہیں”
سارا چونکی… پھر آہستہ سے بولی،
“تھوڑا سا…”
وجدان نے مسکرا کر کہا،
“میں اتنا بھی ڈراؤنا نہیں ہوں 😄”
سارا کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آ گئی…
“میں… بس عادی نہیں ہوں ان سب چیزوں کی”
وجدان نے نرمی سے کہا،
“کوئی بات نہیں… ہم آہستہ آہستہ عادی ہو جائیں گے”
اس کا لہجہ نہایت مطمئن تھا…
“میں آپ سے کسی جلدی کی توقع نہیں رکھتا…
بس سکون سے رہیں”
یہ جملہ جیسے سارا کے دل پر مرہم بن گیا۔
اس نے پہلی بار سکون محسوس کیا…
پھر آہستہ سے بولی،
“آپ… واقعی ایسے ہی ہیں؟”
وجدان ہلکا سا مسکرایا،
“کیسے؟”
“یعنی… اتنے calm”
وہ ہنس پڑا،
“نہیں… کبھی کبھی میں بھی تنگ کرتا ہوں 😄”
“سچ؟”
“جی… لیکن ڈرنے والی بات نہیں ہے”
یہ سنتے ہی سارا ہلکی سی کھلکھلا کر ہنس دی…
اس کی وہ ہنسی…
جو شاید کئی دنوں بعد دل سے نکلی تھی۔
دور بیٹھے علیزہ نے یہ منظر دیکھا…
اور اس کے دل میں پہلی بار سکون آیا۔
شاید… سارا کے لیے یہ رشتہ برا نہیں تھا۔
شام ڈھلنے لگی…
اور ایک ڈری ہوئی لڑکی…
آہستہ آہستہ ایک نئی زندگی کو قبول کرنے لگی۔
راولپنڈی کی گلیاں آج بھی ویسی ہی تھیں…
مگر کچھ کہانیاں بدل چکی تھیں۔
دوپہر ڈھل رہی تھی جب ایک بڑی، سیاہ گاڑی آہستہ سے گلی کے باہر آ کر رکی۔
دروازہ کھلا… اور سارا نیچے اتری۔
آج وہ پہلے جیسی سادہ سی سارا نہیں لگ رہی تھی…
اس کے لباس میں نفاست تھی، انداز میں وقار…
مگر آنکھوں میں وہی اپنائیت اور فکر۔
اس کے ساتھ وجدان بھی تھا—
“میں جلدی آتی ہوں…” سارا نے دھیمی آواز میں کہا۔
وجدان نے سر ہلایا،
“میں یہی ہوں”
سارا تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوئی۔
“علیزہ؟”
کوئی جواب نہیں…
وہ کمرے کی طرف بڑھی—دروازہ کھولا…
کمرہ خالی تھا۔
ایک لمحے کو جیسے اس کی سانس رک گئی۔
“علیزہ…؟”
اب آواز کمزور ہو چکی تھی۔
وہ فوراً باہر آئی،
“تائی جان! علیزہ کہاں ہے؟!”
رابعہ بیگم نے بےپروا انداز میں کہا،
“چلی گئی”
“کہاں گئی؟!”
“ہم نے تو بہت سمجھایا… مگر وہ خود ہی گھر چھوڑ کر چلی گئی… کہہ رہی تھی اسے یہاں گھٹن ہوتی ہے”
یہ جھوٹ تھا…
مگر اتنے سکون سے کہا گیا کہ لمحہ بھر کو سب کچھ ساکت ہو گیا۔
“نہیں…” سارا کی آواز ٹوٹ گئی،
“وہ ایسا نہیں کر سکتی…”
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
باہر…
وجدان گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا…
جب اسے اندر سے سارا کی رونے کی آواز سنائی دی تو وہ فوراً اندر آ گیا۔
“سارا؟”
وہ اس کے پاس آیا…
سارا خود کو روک نہ سکی،
“علیزہ… نہیں ہے…”
وجدان نے ایک لمحے میں سب سمجھ لیا۔
وہ آہستہ سے بولا،
“ارام سے…”
پھر نرمی مگر یقین کے ساتھ کہا،
“فکر نہ کریں… ہم ڈھونڈیں گے اسے…
ان شاء اللہ مل جائے گی”
یہ صرف تسلی نہیں تھی…
یہ ایک وعدہ تھا۔
سارا نے اس کی طرف دیکھا…
اس کی آنکھوں میں تھوڑا سا سکون آیا…
جیسے کسی نے اس کے بکھرے ہوئے حوصلے کو تھام لیا ہو۔
گھر کے اندر خاموشی تھی…
مگر اس خاموشی کے پیچھے سچ چھپا ہوا تھا۔
اور کہیں دور…
علیزہ اور آمنہ…
ایک نئی آزمائش کے دروازے پر کھڑی تھیں۔
جبکہ یہاں…
سارا کے دل میں ایک ہی دعا تھی—
“یا اللہ…
جہاں بھی ہو… میری بہن کو اپنی حفاظت میں رکھنا…”
✨ To be continued…
Guyzz comments me btain Alizeh Amna me SE Kon hai Ayan demir ki shahzadi

Comments
Post a Comment
Please comment respectfully