عشقِ حدود | قسط 2 | خوف بھری تیاری اور پہلی ملاقات | Urdu Novel

                     

Thumbnail showing a sad hijabi girl with emotional expressions and dark aesthetic background, featuring Urdu text from Ishq E Hudood Episode 2 about fear, destiny, and marriage proposal moments.

راولپنڈی کی صبح آج کچھ مختلف تھی…


سورج کی پہلی کرن جب کھڑکی کے باریک پردے سے اندر آئی تو کمرے میں ایک ہلکی سی سنہری روشنی پھیل گئی۔ مگر اس روشنی میں وہ سکون نہیں تھا جو عام دنوں میں ہوتا تھا… آج اس میں ایک انجانا سا دباؤ تھا، ایک خاموش سا خوف۔


علیزہ کی آنکھ اسی روشنی سے کھلی۔


وہ چند لمحے ایسے ہی لیٹی رہی… جیسے خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہو کہ سب ٹھیک ہے۔ مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔


اس نے آہستہ سے کروٹ بدلی… سامنے سارا بیٹھی تھی، پہلے سے جاگ رہی تھی۔


“سوئی نہیں تم؟” علیزہ نے دھیمی آواز میں پوچھا۔


سارا نے ہلکی سی مسکراہٹ دینے کی کوشش کی،

“نیند آئی ہی نہیں…”


کمرے میں کچھ دیر خاموشی رہی۔


پھر سارا نے کہا،

“آج… وہ لوگ آئیں گے”


یہ جملہ جیسے حقیقت کو اور قریب لے آیا۔


علیزہ نے نظریں جھکا لیں،

“ہاں…”



---


کچن سے برتنوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔


تائی جاگ چکی تھی۔


اور اس کا مطلب تھا… آج کا دن آسان نہیں ہوگا۔



---


“دونوں باہر آؤ!” تائی کی آواز گونجی۔


دونوں بہنیں فوراً اٹھ گئیں۔



---


کچن میں داخل ہوتے ہی ماحول کی سختی محسوس ہو رہی تھی۔


تائی ایک طرف کھڑی تھی، ہاتھ میں چمچ… چہرے پر سختی۔


“آج سب کچھ بہترین ہونا چاہیے”


اس کی آواز میں حکم تھا، پیار نہیں۔


“کھانا بھی… اور تم دونوں بھی”


سارا نے آہستہ سے سر ہلایا،

“جی…”


علیزہ خاموش کھڑی رہی۔



---


تائی نے ایک نظر دونوں پر ڈالی، پھر مزید سخت لہجے میں بولی،


“میں نہیں چاہتی کہ وہ لوگ یہاں سے مایوس ہو کر جائیں”


کمرے کی فضا جیسے رک گئی۔


“اگر تم دونوں میں سے ایک بھی انہیں پسند نہ آئی…”


وہ ذرا قریب آئی…


“تو اپنا انجام خود دیکھ لینا”


یہ الفاظ دھیمے تھے… مگر اثر بہت گہرا تھا۔



---


سارا کے ہاتھ کانپ گئے۔


علیزہ نے بےاختیار اس کا ہاتھ تھام لیا۔


تائی نے منہ موڑا اور کام میں لگ گئی، جیسے اس نے کچھ خاص کہا ہی نہ ہو۔



---


دونوں بہنیں خاموشی سے اپنے کمرے میں واپس آ گئیں۔


دروازہ بند ہوتے ہی جیسے وہ مضبوطی بھی ختم ہو گئی جو وہ باہر دکھا رہی تھیں۔


سارا نے فوراً کہا،

“یہ ہمیں ڈرا رہی ہیں…”


علیزہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا،

“شاید…”


مگر اس کی اپنی آواز میں بھی یقین نہیں تھا۔



---


کچھ دیر بعد دونوں تیار ہونے لگیں۔


آج کپڑے بھی وہی تھے جو تائی نے دیے تھے۔


سادہ… مگر صاف۔


علیزہ نے دوپٹہ ٹھیک کیا… آئینے میں خود کو دیکھا۔


وہ خوبصورت تھی… مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔


جیسے وہ خود سے پوچھ رہی ہو…

“کیا آج میری زندگی بدلنے والی ہے؟”



---


سارا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،

“تم ٹھیک لگ رہی ہو”


علیزہ نے مسکرا کر کہا،

“تم بھی…”


مگر دونوں جانتی تھیں… یہ مسکراہٹیں سچی نہیں تھیں۔



---


گھر میں تیاری مکمل ہو چکی تھی۔


کھانا تیار… میز سجی ہوئی…


اور ماحول… حد سے زیادہ خاموش۔


ہر آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔


گھڑی کی ٹک ٹک بھی۔


دل کی دھڑکن بھی۔



---


دروازے کے باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔


سارا کا ہاتھ فوراً علیزہ کے ہاتھ میں آ گیا۔


دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا…


کوئی لفظ نہیں تھا… مگر سب کچھ سمجھ آ رہا تھا۔



---


تائی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔


چہرے پر اب سختی نہیں تھی… بلکہ ایک بناوٹی سی مسکراہٹ تھی۔


دروازہ کھلا…


باہر سے لوگوں کی ہلکی آوازیں آئیں۔



---


کمرے کے اندر…


علیزہ اور سارا ابھی تک وہیں کھڑی تھیں۔


سانسیں تھوڑی تیز…


دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا…


اور زندگی…


ایک نئے موڑ پر کھڑی تھی۔



---

دروازہ کھلنے کی ہلکی سی آواز کے ساتھ گھر کی خاموش فضا میں ایک نئی حرکت پیدا ہوئی۔

باہر سے چند نرم قدموں کی چاپ سنائی دی… اور پھر ایک باوقار آواز، “السلام علیکم”

رابعہ بیگم—یعنی تائی—کے چہرے پر فوراً ایک بناوٹی مگر خوشگوار مسکراہٹ آ گئی۔

“وعلیکم السلام… آئیے، آئیے”

وہ ذرا سا ایک طرف ہوئیں، راستہ دیا، اور مہمانوں کو اندر آنے کی دعوت دی۔

سب سے آگے ایک نفیس، باپردہ اور سنجیدہ خاتون تھیں—نazia بیگم۔

ان کے انداز میں دکھاوا نہیں تھا… مگر ایک قدرتی وقار تھا جو خود ہی نمایاں ہو رہا تھا۔

ان کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا—وجدان—جو سر جھکائے، نہایت ادب سے چل رہا تھا۔

ان کے ہاتھوں میں مٹھائی کے ڈبے اور چند خوبصورت تحفے تھے۔

سادگی کے ساتھ سلیقہ… اور سلیقے کے ساتھ نرمی۔

رابعہ بیگم نے فوراً آگے بڑھ کر چیزیں تھامیں،

“ارے… یہ سب کیوں تکلف کیا آپ نے”

نazia بیگم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،

“رسم ہے… خالی ہاتھ آنا اچھا نہیں لگتا”

ڈرائنگ روم میں پہلے سے سب کچھ ترتیب سے رکھا گیا تھا۔

صوفے صاف، میز سجی ہوئی… اور فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی۔

“تشریف رکھیں” رابعہ بیگم نے ادب سے کہا۔

سب بیٹھ گئے۔

چند لمحوں تک عام سی باتیں ہوتی رہیں—حال احوال، شہر کی باتیں، موسم…

مگر اصل مقصد سب کے دل میں موجود تھا۔

نazia بیگم نے آہستہ سے اردگرد نظر دوڑائی،

“لڑکیاں…؟”

یہ ایک سادہ سا سوال تھا… مگر اس کے پیچھے بہت کچھ تھا۔

رابعہ بیگم نے فوراً جواب دیا،

“جی… ابھی بلاتی ہوں”

وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھیں۔

دروازہ کھولا… اندر علیزہ اور سارا ابھی تک خاموش بیٹھی تھیں۔

“چلو… باہر آؤ”

ان کی آواز میں اب پھر وہی سختی لوٹ آئی تھی۔

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا…

اور بغیر کچھ کہے اٹھ گئیں۔

دل کی دھڑکن جیسے قدموں کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔

جب وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں تو ایک لمحے کے لیے فضا تھم سی گئی۔

علیزہ کا دوپٹہ سلیقے سے سر پر تھا… نگاہیں جھکی ہوئی…

سارا بھی اسی طرح خاموش اور محتاط۔

نazia بیگم نے دونوں کو غور سے دیکھا…

ان کی نظر میں جانچ کم تھی… اور سمجھ زیادہ۔

“بیٹھ جاؤ بیٹا” انہوں نے نرمی سے کہا۔

دونوں آہستہ سے ایک طرف بیٹھ گئیں۔

کمرے میں پھر سے خاموشی پھیل گئی…

مگر اس بار یہ خاموشی سوالوں سے بھری ہوئی تھی۔

اسی لمحے…

کہانی کا رخ ایک اور دنیا کی طرف مڑتا ہے۔

استنبول کی صبح آج کچھ اور ہی رنگ لیے ہوئے تھی۔

اتوار کا دن تھا… اور شہر کی رفتار نسبتاً دھیمی۔

ایک کشادہ سے پارک میں ہری گھاس پر دھوپ نرم انداز میں بکھری ہوئی تھی۔

درختوں کے سائے ہلکے ہلکے جھول رہے تھے… اور فضا میں بچوں کی ہنسی گونج رہی تھی۔

اسی پارک کے ایک کونے میں…

آیان، زیان، ارحم اور امیر موجود تھے۔

آج ان کے چہروں پر وہ سنجیدگی نہیں تھی جو عام دنوں میں ہوتی تھی۔

آج وہ صرف دوست تھے… عام انسانوں کی طرح ہنستے ہوئے۔

“پکڑ سکتے ہو تو پکڑو!” امیر نے ہنستے ہوئے کہا اور تیزی سے آگے بھاگا۔

ارحم فوراً اس کے پیچھے،

“آج تو تم بچو گے نہیں!”

زیان ایک طرف کھڑا مسکرا رہا تھا،

“یہ دونوں کبھی نہیں سدھریں گے”

مگر اگلے ہی لمحے وہ خود بھی دوڑ میں شامل ہو گیا۔

چند ہی لمحوں میں وہ چاروں بچوں کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے…

ہنسی، آوازیں، اور ایک ہلکی سی بےفکری۔

اسی دوران…

پارک کے دوسرے راستے سے تین خواتین آتی دکھائی دیں۔

حورین، مہر اور عنایہ۔

ان کے ہاتھوں میں سادہ سے لنچ باکسز تھے—سینڈوچز اور پانی۔

“لگتا ہے آج پھر کھیل شروع ہو چکا ہے” مہر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

عنایہ ہلکا سا ہنس دی،

“انہیں چھوڑ دیں… پہلے کھانا کھلانا ہے”

وہ قریب آئیں تو امیر نے فوراً ہاتھ ہلایا،

“بچاؤ! reinforcement آ گئی!”

حورین نے ہنستے ہوئے کہا،

“پہلے کھانا… پھر کھیل”

سب آہستہ آہستہ گھاس پر بیٹھ گئے۔

اسی دوران… آیان بھی وہیں آ کر ایک طرف بیٹھ گیا۔

وہ خاموش تھا…

مگر اس کے چہرے پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔

اس کے دوست اسے اچھی طرح جانتے تھے…

اس لیے نہ کسی نے کوئی غیر ضروری بات کی، نہ کوئی احساس دلایا۔

ارحم نے ہلکے انداز میں کہا،

“آیان، تم بھی کچھ کھاؤ… صرف دیکھنے سے پیٹ نہیں بھرے گا”

آیان مسکرا دیا،

“کھا رہا ہوں…”

وہ اپنے ہاتھ میں موجود سادہ سا سینڈوچ آہستہ آہستہ کھانے لگا۔

ادھر تینوں دوست اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ ہلکی باتوں میں مصروف ہو گئے۔

کبھی کوئی مسکرا دیتا… کبھی کوئی ہلکا سا مذاق کر دیتا۔

یہ سب کچھ سادہ تھا… مگر خوبصورت۔

آیان نے ایک نظر ان سب پر ڈالی…

پھر نظریں آسمان کی طرف اٹھا دیں۔

پرندے آزاد فضا میں اڑ رہے تھے…

اور ہوا میں ایک عجیب سا سکون تھا۔

وہ کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا… جیسے کسی گہرے خیال میں ہو۔

تبھی زیان نے آہستہ سے کہا،

“آیان… تم بھی کچھ سوچ رہے ہو؟”

آیان نے اس کی طرف دیکھا…

اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،

“جب اللہ کا حکم ہوگا… تب ہی میری بھی شہزادی آ جائے گی… ان شاء اللہ”

اس کے لہجے میں نہ جلدی تھی… نہ اداسی…

بس ایک پُرسکون یقین۔

چند لمحوں کے لیے سب خاموش ہو گئے…

پھر امیر نے ماحول ہلکا کرنے کے لیے کہا،

“تب تک ہم ہ

ی برداشت کرو 😄”

سب ہنس پڑے۔

کچھ دیر مزید وہیں بیٹھ کر باتیں ہوتی رہیں…

پھر آہستہ آہستہ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔

سورج اب ذرا اوپر آ چکا تھا…

اور دن اپنی رفتار پکڑ رہا تھا۔

سب اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے…

اور کہیں دور…

دو مختلف دنیائیں

ایک ہی کہانی کے دھاگے میں جڑنے کے قریب تھیں۔


🎥 Episode 2 – Part 1: https://youtu.be/O_qYXcVQM-U?si=RgAqWWwH-zZQHgzX


🎥 Episode 2 – Part 2: https://youtu.be/3LvSZFtgIm0?si=cohtuicWo0stB5tZ


⬅ Previous Episode: https://blushtalesofficial.blogspot.com/2026/05/1-urdu-novel.html


➡ Next Episode: ( coming soon)



Comments

Trending Stories

عشقِ حدود | قسط 4 | ایک نیا سفر، ایک انجان منزل | Urdu Novel