عشقِ حدود | قسط 4 | ایک نیا سفر، ایک انجان منزل | Urdu Novel
راولپنڈی کی فضا میں ابھی تک وہی خاموشی بسی ہوئی تھی…
مگر اس خاموشی کے پیچھے اب ایک نیا فیصلہ جنم لے چکا تھا۔
ڈیمر فاؤنڈیشن کے دفتر میں اس دن معمول سے کچھ مختلف تھا۔
فائلوں کے درمیان دو نئے نام شامل ہوئے تھے…
علیزہ… اور آمنہ
یہ صرف نام نہیں تھے…
یہ دو کہانیاں تھیں… دو آزمائشیں…
جنہیں اب ایک نئی سمت دی جانی تھی۔
آیان ڈیمر اپنی کرسی پر بیٹھا فائل کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح گہرائی تھی… مگر اس بار اس میں ایک خاص توجہ بھی شامل تھی۔
“یہ دونوں کیسز…”
اس نے آہستہ سے کہا۔
زیان نے فائل کھولی،
“جی… دونوں یتیم… حالات بھی کافی سخت رہے ہیں”
ارحم نے مزید وضاحت کی،
“اور سب سے اہم بات… دونوں کا کردار صاف ہے، کوئی غلط چیز نہیں… بس الزام لگا کر چھوڑ دیا گیا”
امیر نے ہلکی سی سانس لی،
“ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں…”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
آیان نے فائل بند کی…
اور نہایت سادہ مگر مضبوط لہجے میں کہا،
“انہیں یہاں بلایا جائے”
یہ فیصلہ تھا…
اور اس فیصلے کے پیچھے نیت صرف ایک تھی—
مدد… عزت کے ساتھ
اگلے دن…
یتیم خانے کے ایک سادہ سے کمرے میں علیزہ اور آمنہ بیٹھی تھیں۔
ان کے سامنے ایک خاتون بیٹھی تھی جو نہایت نرم لہجے میں بات کر رہی تھی۔
“بیٹا… آپ دونوں کے لیے ایک بہتر جگہ کا انتظام کیا جا رہا ہے”
آمنہ نے فوراً سوال کیا،
“کہاں؟”
اس کی آواز میں ہلکی سی بےچینی تھی۔
علیزہ خاموش تھی… مگر اس کی آنکھیں سب کچھ پوچھ رہی تھیں۔
“ترکی…”
خاتون نے آہستہ سے جواب دیا۔
“ترکی؟!” آمنہ چونک گئی،
“ہمیں وہاں کیوں لے جا رہے ہیں؟”
اس کے لہجے میں ڈر نہیں تھا… مگر اعتماد بھی نہیں تھا۔
علیزہ نے آہستہ سے کہا،
“ہم… کسی کو جانتے بھی نہیں وہاں”
خاتون نے نرمی سے مسکرا کر کہا،
“وہاں ایک فاؤنڈیشن ہے… جو آپ جیسے بچوں کی مدد کرتی ہے… تعلیم، رہائش، عزت کے ساتھ زندگی”
یہ الفاظ سادہ تھے…
مگر ان کے اندر ایک امید چھپی ہوئی تھی۔
آمنہ نے علیزہ کی طرف دیکھا،
“تم کیا سوچتی ہو؟”
علیزہ نے چند لمحے سوچا…
پھر دھیمی آواز میں کہا،
“اگر نیت اچھی ہے… تو شاید یہ موقع ہے”
یہ جواب مکمل یقین نہیں تھا…
مگر ایک قدم ضرور تھا۔
چند دنوں میں تیاری شروع ہو گئی۔
ان کی زندگی میں پہلی بار…
کوئی چیز ان کے لیے “آسانی” کے ساتھ ہو رہی تھی۔
چھوٹا سا بیگ… چند کپڑے…
اور کچھ یادیں…
آمنہ نے بیگ بند کرتے ہوئے کہا،
“ہم واقعی جا رہے ہیں…”
علیزہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی،
“ہاں… شاید ہماری زندگی بدلنے والی ہے”
“یا پھر…” آمنہ نے آدھی بات کہی۔
علیزہ نے اس کی بات مکمل کی،
“یا پھر ایک اور امتحان ہے”
دونوں کچھ لمحے خاموش رہیں…
پھر آمنہ ہلکا سا ہنس دی،
“چلو… جو بھی ہے… ساتھ تو ہیں”
علیزہ نے سر ہلایا،
“ہمیشہ”
سفر کا دن آ گیا۔
ہوائی اڈے کی فضا ان کے لیے بالکل نئی تھی…
لوگ… آوازیں… اعلان…
سب کچھ مختلف…
آمنہ بار بار ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی،
“یہ سب… کتنا عجیب ہے”
علیزہ نے آہستہ سے کہا،
“ڈرو نہیں… میں ہوں نا”
یہ جملہ سادہ تھا…
مگر دونوں کے لیے سہارا تھا۔
جب جہاز نے پرواز بھری…
تو دونوں نے پہلی بار زمین کو دور جاتے دیکھا…
جیسے ماضی پیچھے رہ رہا ہو…
اور مستقبل آہستہ آہستہ قریب آ رہا ہو۔
استنبول…
جہاز کے لینڈ ہوتے ہی ایک نئی دنیا نے ان کا استقبال کیا۔
ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی…
اور فضا میں ایک عجیب سا سکون۔
“یہ… واقعی ترکی ہے؟” آمنہ نے آہستہ سے کہا۔
علیزہ نے اردگرد دیکھا…
پھر دھیمی آواز میں بولی،
“ہاں… اور شاید… یہی سے ہماری کہانی بدلنے والی ہے”
ایئرپورٹ کے باہر…
ڈیمر فاؤنڈیشن کی گاڑی موجود تھی۔
امیر خود لینے آیا تھا۔
اس نے نہایت ادب سے کہا،
“السلام علیکم… آپ علیزہ اور آمنہ ہیں؟”
دونوں نے ہلکے سے جواب دیا،
“وعلیکم السلام”
اس کے انداز میں نہ اجنبیت تھی… نہ سختی…
بس ایک سادہ سا احترام۔
“آئیں… آپ کو آپ کی جگہ لے چلتے ہیں”
راستے بھر آمنہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی،
“یہ شہر… کتنا خوبصورت ہے”
علیزہ خاموش تھی…
مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر رہا تھا۔
جیسے کہیں نہ کہیں…
یہ جگہ اس کے لیے نئی نہیں تھی۔
کہیں دور…
آیان ڈیمر اپنی عمارت کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔
شہر اس کے سامنے پھیلا ہوا تھا…
اور قسمت…
آہستہ آہستہ اس کی زندگی میں دو نئے نام شامل کرنے جا رہی تھی۔
اسے ابھی معلوم نہیں تھا…
کہ ان میں سے ایک…
اس کی زندگی بدل دے گی۔
استنبول کی ٹھنڈی ہوا جیسے ان دونوں کے تھکے ہوئے دلوں پر نرم ہاتھ رکھ رہی تھی…
ایئرپورٹ کی بھیڑ سے نکل کر جب وہ باہر آئیں تو ایک نیا منظر ان کے سامنے تھا—
صاف سڑکیں… منظم ماحول… اور ایک عجیب سا سکون۔
مگر اس سکون کے ساتھ ایک ہلکی سی جھجک بھی تھی۔
“اب… آگے کیا ہوگا؟” آمنہ نے آہستہ سے کہا۔
علیزہ نے صرف اتنا کہا،
“اللہ بہتر کرے گا…”
اسی لمحے… سامنے سے تین باوقار خواتین ان کی طرف بڑھتی دکھائی دیں۔
سادہ مگر خوبصورت لباس… سر پر دوپٹہ… اور چہروں پر نرمی۔
حورین، مہر اور عنایہ۔
حورین نے قریب آ کر مسکرا کر کہا،
“السلام علیکم بیٹا”
دونوں نے فوراً جواب دیا،
“وعلیکم السلام”
عنایہ نے محبت سے پوچھا،
“سفر کیسا رہا؟”
آمنہ نے ہلکی سی جھجھک کے ساتھ کہا،
“ٹھیک تھا…”
مہر نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے بیگ لیا،
“آئیں… اب گھر چلتے ہیں”
یہ “گھر” کا لفظ سن کر دونوں ایک لمحے کے لیے رک گئیں…
کیا واقعی…؟
---
کچھ ہی دیر میں وہ امیر کایا کے گھر پہنچ گئیں۔
گھر کا دروازہ کھلا…
تو ایک سادہ مگر بےحد پُرسکون ماحول نے ان کا استقبال کیا۔
کوئی شور نہیں… کوئی سختی نہیں…
بس ترتیب… اور سکون۔
آمنہ نے آہستہ سے علیزہ کے کان میں کہا،
“یہ جگہ… الگ لگ رہی ہے”
علیزہ نے سر ہلایا،
“ہاں…”
---
حورین انہیں ایک کمرے میں لے گئی۔
“یہ آپ دونوں کا کمرہ ہے”
کمرہ صاف ستھرا… ہلکی روشنی…
اور ہر چیز اپنی جگہ پر۔
“پہلے آپ fresh ہو جائیں… پھر کھانا کھاتے ہیں”
عنایہ نے نرمی سے کہا۔
مہر نے الماری کھولی اور چند خوبصورت مگر سادہ کپڑے نکالے،
“یہ آپ کے لیے ہیں”
آمنہ حیران رہ گئی،
“ہمارے لیے…؟”
“جی” مہر مسکرا دی،
“اب آپ یہاں ہماری ذمہ داری ہیں”
یہ جملہ سخت نہیں تھا…
بلکہ ایک محفوظ ہونے کا احساس تھا۔
---
کچھ دیر بعد…
دونوں صاف ستھرے کپڑوں میں باہر آئیں۔
کھانے کی میز سجی ہوئی تھی…
سادہ مگر خوشبو دار کھانا۔
حورین نے کہا،
“بیٹھیں بیٹا…”
پہلے دونوں ہچکچائیں…
پھر آہستہ سے بیٹھ گئیں۔
آمنہ نے پہلا نوالہ لیا…
اور ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
“کیا ہوا؟” عنایہ نے پوچھا۔
آمنہ نے آہستہ سے کہا،
“کچھ نہیں… بس… بہت دنوں بعد سکون سے کھا رہی ہوں”
کمرے میں خاموشی چھا گئی…
مگر اس خاموشی میں درد بھی تھا… اور شکر بھی۔
---
کھانے کے بعد…
تینوں خواتین ان کے پاس بیٹھ گئیں۔
بات چیت سادہ تھی…
کوئی ذاتی سوال نہیں… کوئی دباؤ نہیں…
بس حال پوچھنا… اور تسلی دینا۔
“یہاں آپ کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی”
حورین نے نرمی سے کہا۔
“اور سب سے اہم بات…” عنایہ نے آہستہ سے کہا،
“یہاں آپ پر کوئی زبردستی نہیں ہوگی”
یہ جملہ جیسے سیدھا دل تک گیا۔
علیزہ نے پہلی بار سر اٹھا کر انہیں دیکھا…
اس کی آنکھوں میں ایک خاموش شکر تھا۔
---
رات گہری ہونے لگی…
“اب آپ آرام کریں” مہر نے کہا۔
دونوں اپنے کمرے میں آ گئیں۔
دروازہ بند ہوا…
اور جیسے پہلی بار…
وہ واقعی محفوظ تھیں۔
آمنہ بستر پر بیٹھ گئی،
“علیزہ… یہ سب سچ ہے؟”
علیزہ نے آہستہ سے کہا،
“شاید… اللہ نے ہمارے لیے آسانی لکھی ہے”
آمنہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی،
“پہلی بار… ڈر نہیں لگ رہا”
دونوں لیٹ گئیں…
اور نیند… جو کئی راتوں سے روٹھی ہوئی تھی…
آج خود آ گئی۔
---
صبح…
ہلکی روشنی کمرے میں داخل ہوئی۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
“بیٹا… اٹھ جائیں، ناشتہ تیار ہے”
حورین کی نرم آواز تھی۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا…
اور مسکرا دیں۔
---
ناشتے کی میز پر…
سارا ماحول پرسکون تھا۔
چند ہی دیر میں مہر اور عنایہ بھی آ گئیں۔
آج تینوں خواتین نے کہیں نہیں جانا تھا…
وہ ان دونوں کے ساتھ رہنا چاہتی تھیں۔
“آج ہم سب گھر پر ہیں” عنایہ نے کہا،
“آپ کے ساتھ وقت گزاریں گے”
آمنہ نے حیرت سے کہا،
“آپ لوگ… کام پر نہیں جائیں گی؟”
مہر مسکرا دی،
“آج آپ زیادہ اہم ہیں”
---
اسی دوران امیر بھی آ گیا۔
اس نے سلام کیا… اور سب کے ساتھ بیٹھ گیا۔
کچھ دیر عام باتیں ہوتی رہیں…
پھر اس نے نہایت سنجیدگی مگر نرمی سے کہا،
“آمنہ… ایک بات کرنی تھی”
آمنہ تھوڑی سی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“جی…؟”
امیر نے آہستہ سے کہا،
“آج رات… ایک خاندان آپ سے ملنے آنا چاہتا ہے”
کمرے میں ہلکی سی خاموشی چھا گئی۔
“لڑکے کا نام سجاد ہے… اچھا لڑکا ہے، دین دار اور بااخلاق”
آمنہ کے چہرے پر ہلکی سی حیرت آئی…
مگر امیر نے فوراً بات مکمل کی،
“لیکن… یہ صرف ایک ملاقات ہے”
وہ ذرا سا رکا… پھر واضح انداز میں کہا،
“اگر آپ کی مرضی نہ ہو… تو کوئی زبردستی نہیں ہوگی”
یہ جملہ صاف تھا… مضبوط بھی۔
حورین نے نرمی سے آمنہ کا ہاتھ تھاما،
“آپ کو پورا حق ہے… فیصلہ کرنے کا”
آمنہ نے علیزہ کی طرف دیکھا…
جیسے اس سے ہمت لے رہی ہو۔
علیزہ نے ہلکے سے سر ہلایا…
جیسے کہہ رہی ہو—
“ڈرو نہیں”
آمنہ نے آہستہ سے کہا،
“میں… سوچ لوں گی”
“بالکل” امیر نے فوراً کہا،
“آرام سے سوچیں… کوئی جلدی نہیں”
---
پھر اس نے خود ہی اگلی بات واضح کی،
“اور علیزہ کے بارے میں… ابھی ہم نے کچھ نہیں سوچا”
سب کی نظریں ایک لمحے کو علیزہ کی طرف گئیں…
“وہ ابھی چھوٹی ہے… اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی جائے گی”
یہ جملہ سن کر ع
لیزہ کے دل سے جیسے ایک بوجھ ہٹ گیا۔
پہلی بار…
کسی نے اس کی عمر کو سمجھا تھا…
اس پر بوجھ نہیں ڈالا تھا۔
---
کمرے کی فضا اب پہلے سے زیادہ نرم تھی…
یہاں فیصلے تھے…
مگر زبردستی نہیں تھی۔
یہاں رشتے تھے…
مگر عزت کے ساتھ۔
اور پہلی بار…
آمنہ اور علیزہ کو لگا—
کہ شاید…
یہ جگہ واقعی ان کے لیے بنی ہے۔
---
جاری ہے…
Doston AP logon ko Kya kgta zra apna apna btain agy Kya Hoga

Comments
Post a Comment
Please comment respectfully