ناول: عشقِ حدود
قسط 6 – ایک فیصلہ… دل کی رضا سے
استنبول کی صبح آج کچھ الگ سی تھی…
ہوا میں ہلکی سی خنکی… اور گھر کے اندر ایک خوشگوار سی ہلچل۔
---
امیر کایا کے گھر کا لان…
علیزہ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا soft toy لیے دوڑ رہی تھی 😄
“مجھے پکڑ کے دکھاؤ!”
وہ زور سے ہنسی… اور پیچھے مڑ کر دیکھا—
مہر، عنایہ اور حورین اس کے پیچھے تھیں 😆
“علیززہااا! رک جاؤ!” مہر نے ہنستے ہوئے کہا
“نہیں پکڑ سکتی تم لوگ!” 😜
عنایہ ہنسی،
“یہ تو واقعی بچی بن گئی ہے آج!”
حورین نے مسکرا کر کہا،
“آج نہیں… یہ ہمیشہ ایسی ہی تھی”
---
اچانک علیزہ رک گئی…
سانس لیتے ہوئے آہستہ سے بولی…
“میں… پہلے بھی ایسی ہی تھی…”
سب خاموش ہو گئیں۔
“امی ابو کے ساتھ… میں بہت ہنستی تھی… شرارتیں کرتی تھی…”
اس کی آواز ہلکی سی بھر آئی…
“بس… تائی کے ظلم نے مجھے بدل دیا…”
چند لمحے خاموشی رہی…
پھر وہ خود ہی مسکرا دی 😄
“لیکن اب… لگتا ہے میرا اندر والا بچہ واپس آ گیا ہے!”
---
مہر نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا 💛
“اور ہم اسے دوبارہ کبھی کھونے نہیں دیں گے”
---
اسی وقت… 📱 فون بجا
یہ کال امیر کایا کی تھی — حورین کے لیے
حورین نے کال اٹھائی،
“جی؟”
امیر کی آواز آئی،
“ہم شام کو آ رہے ہیں… ایک اہم بات کے لیے”
حورین نے نرمی سے جواب دیا،
“ٹھیک ہے”
---
فون بند ہوتے ہی…
عنایہ اور مہر نے ایک دوسرے کو دیکھا 😏
عنایہ نے آنکھ دبائی 😉
“آج کچھ خاص ہونے والا ہے”
مہر ہنسی 😄
“بالکل…”
---
علیزہ فوراً بولی،
“کیا ہو رہا ہے؟! مجھے بھی بتاؤ!” 😤
حورین نے ہنستے ہوئے کہا،
“شام تک صبر کرو 😄”
---
“کہاں جانا ہے؟!”
عنایہ بولی،
“کہیں نہیں… شام کو مہمان آ رہے ہیں 😉”
“کیاااا؟!” 😳
---
علیزہ فوراً بولی،
“تو میں اپنی بہن سارا کو بھی بلاؤں گی!”
“ضرور” مہر نے کہا
---
کچھ دیر بعد…
📞 سارا اور وجدان آ گئے
(Short flashback softly merged)
سارا اور وجدان عمرہ سے واپس آئے تھے…
وہاں کی دعاؤں میں ایک دعا بار بار تھی—
“یا اللہ… علیزہ کو محفوظ رکھنا”
Flashback details
Flashback Sara or wajdan phle Umrah krne saudiya gye thy phr achanak wajdan ne surprise diya usko maloom hogya tha k alizeh idr magar woh Sara ko jaldi btana nhi Chahta tha magar Jo Allah ko manzoor Wajdan ka aik dost turkey me tha Jo inke ejax In 4 doston k Sath kaam karta tha wajdan ko maloom hua orphanage se larkiyan bulain jati Hein idr to saudiya me Sara wajdan ne bhtt duain mangi or ejaz ki call ai thi Sara bhabhi ki Behen idr turkey bulain gai hai hmaray office me details match kar Rahi Hein to woh log turkey aye aik din hua tha to agly din wajdan ne surprise dena tha magar alizeh ki call ajati mgr yh bhi 🙀 surprise tha woh Allah ka shukr Karti Behen se milti hai
پھر ایک خبر…
پھر تلاش…
اور آج… وہ یہاں تھے۔
---
دروازہ کھلا…
جیسے ہی علیزہ نے سارا کو دیکھا—
وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئی 😭
“آپییی…!”
سارا کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے
“مجھے معاف کر دو…”
“نہیں آپی…” علیزہ روتے ہوئے بولی
“آپ کی کوئی غلطی نہیں تھی…”
---
دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے سے لپٹی رہیں 💔
وجدان ایک طرف کھڑا تھا…
خاموش… مگر مطمئن۔
---
تھوڑی دیر بعد…
آمنہ بھی آ گئی 😄
اب سب ساتھ تھیں۔
---
عنایہ نے clap کیا 😆
“چلو لڑکیو! تیار ہو جاؤ — shopping پر جا رہے ہیں!”
“ییییییی!” 😍
---
🚗 دو گاڑیاں نکلیں
پہلی گاڑی: عنایہ (زوجہ زیان ارسلان) drive کر رہی تھی
ساتھ: علیزہ، آمنہ
دوسری گاڑی: حورین (زوجہ امیر کایا) drive کر رہی تھی
ساتھ: مہر، سارا
---
راستے میں…
علیزہ نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا،
“واااوو… استنبول کتنا خوبصورت ہے 😍”
آمنہ ہنسی،
“اور تم اس سے بھی زیادہ شور کر رہی ہو 😆”
“ہاں تو خوش ہوں!” 😜
---
Mall پہنچتے ہی…
“آج کھل کر shopping!” مہر نے کہا 😎
---
✨ Shopping ✨
— سادہ مگر خوبصورت dresses
— pastel hijabs
— elegant abayas
آمنہ کے لیے خاص dress منتخب ہوئی 🤍
عنایہ نے نرمی سے کہا،
“یہ تمہارے نکاح کے لیے مناسب ہے”
آمنہ شرما گئی 😊
---
علیزہ ایک dress اٹھا کر بولی،
“یہ کیسا ہے؟!”
سب: “نہیں!” 😂
---
🍕 پھر سب نے ساتھ کھانا کھایا
🎠 swings بھی لیے
علیزہ سب سے زیادہ ہنس رہی تھی 😆
---
شام…
سب واپس گھر آئیں۔
---
گھر کا ماحول سنجیدہ مگر پُرسکون تھا۔
---
وہاں موجود تھے:
آیان ڈیمر
زیان ارسلان
ارحم ملک
امیر کایا
---
علیزہ اندر آئی…
اور ایک لمحے کو رک گئی…
اس کی نظر… آیان پر پڑی۔
آیان نے فوراً نظریں جھکا لیں…
---
عنایہ نے نرمی سے بات شروع کی:
“ہم ایک اہم بات کرنا چاہتے ہیں…”
---
سب خاموش ہو گئے۔
---
عنایہ نے علیزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“آیان… نکاح کے بارے میں سوچ رہے ہیں”
چند لمحے رک کر…
“اور اگر تم راضی ہو… تو وہ تم سے نکاح کرنا چاہتے ہیں”
---
کمرے میں مکمل سکون…
کوئی دباؤ نہیں…
---
علیزہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا…
اس نے سارا کی طرف دیکھا…
پھر آمنہ کی طرف…
---
حورین نے آہستہ سے کہا،
“فیصلہ صرف تمہارا ہے 💛”
---
علیزہ نے چند لمحے سوچا…
پھر دھیمی آواز میں کہا…
“اگر… سب کچھ عزت اور سکون کے ساتھ ہوگا…”
“تو… مجھے قبول ہے”
---
ایک نرم سی خوشی پورے کمرے میں پھیل گئی…
---
آیان نے سر جھکا کر شکر ادا کیا…
---
یہ کوئی زبردستی نہیں تھی…
یہ ایک رضا تھی…
دل کی رضا۔
---
✨ جاری ہے…
---
نوٹ:
اس کہانی میں نکاح کی بات مکمل اسلامی حدود کے ان
در کی گئی ہے۔ آیان اور علیزہ کے درمیان کوئی غیر ضروری یا تنہائی میں گفتگو نہیں ہوئی، بلکہ یہ بات گھر والوں کی موجودگی میں، باادب انداز سے پیش کی گئی۔ علیزہ کی رضا کو اولین اہمیت دی گئی، اور کسی قسم کی زبردستی شامل نہیں تھی۔
Ayan ki koi family nhi hai srf friends Hein Jo start se episodes read kar rahy Hein woh jnatay Hein or alizeh ki Behen hai bss

Comments
Post a Comment
Please comment respectfully