عشقِ حدود | قسط 7 | ایک پاک بندھن… ایک نئی شروعات | Urdu Novel
استنبول کی شام آج کچھ اور ہی تھی…
آسمان ہلکے سنہری رنگ میں ڈھل رہا تھا…
اور ایک بڑے، پُرسکون ہال میں ایک خوبصورت سادگی کے ساتھ نکاح کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔
یہ کوئی شور شرابے والی تقریب نہیں تھی…
بلکہ وقار، دعا اور خوشی کا حسین امتزاج تھی۔
---
ہال نرم روشنیوں سے جگمگا رہا تھا…
سفید اور ہلکے سنہری رنگ کی سجاوٹ…
ہر چیز میں سادگی کے ساتھ خوبصورتی جھلک رہی تھی۔
---
ادھر…
ایک کمرے میں علیزہ بیٹھی تھی۔
حورین اس کے بال سنوار رہی تھی…
مہر اس کا دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی…
اور عنایہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“آج تو ہماری علیزہ واقعی شہزادی لگ رہی ہے” 👑
علیزہ ہلکی سی شرما گئی 😄
“اتنا بھی نہ کہیں…”
---
اس نے ایک خوبصورت مگر باوقار لباس پہنا ہوا تھا…
ہلکے رنگ کا… نرم کام کے ساتھ…
سر پر نفیس دوپٹہ… اور ایک چھوٹا سا تاج (crown) جو اسے واقعی خاص بنا رہا تھا 👑✨
مگر اس کی اصل خوبصورتی…
اس کی معصوم مسکراہٹ تھی۔
---
حورین نے آہستہ سے کہا،
“گھبراؤ نہیں… سب اچھا ہوگا”
علیزہ نے سر ہلایا…
“پہلی بار… ڈر سے زیادہ سکون ہے”
---
دوسری طرف…
آیان ڈیمر سادگی کے ساتھ تیار تھا…
سفید لباس… سنجیدہ مگر نرم انداز…
زیان ارسلان، ارحم ملک اور امیر کایا اس کے ساتھ تھے۔
امیر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“آج ہمارا دوست officially settle ہونے جا رہا ہے” 😄
آیان نے بس ہلکا سا مسکرا کر سر جھکا لیا۔
---
مہمان آ چکے تھے…
سارا اور وجدان بھی موجود تھے…
سارا کی آنکھوں میں آج خوشی تھی…
اور دل میں شکر۔
---
آمنہ بھی آئی…
اپنے شوہر حسن کے ساتھ 🤍
اس نے محبت سے علیزہ کو گلے لگایا،
“آج تم واقعی بہت خوبصورت لگ رہی ہو”
اور اسے ایک خوبصورت gift دیا 🎁
---
نکاح کا وقت آ گیا…
ہال میں خاموشی پھیل گئی…
قاضی صاحب نے باوقار انداز میں نکاح شروع کروایا۔
سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں…
---
“علیزہ بنت…
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
چند لمحے…
پھر نرم آواز…
“قبول ہے”
---
دوسری طرف…
“آیان ڈیمر… کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
“قبول ہے”
---
تین بار قبول ہے کے ساتھ…
ایک پاک رشتہ قائم ہو گیا 🤍
---
دعا کی گئی…
“اللہ اس نکاح میں برکت ڈالے…
محبت، سکون اور رحمت عطا فرمائے”
آمین۔
---
نکاح کے فوراً بعد ماحول ہلکا سا خوشگوار ہو گیا…
سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔
---
علیزہ آہستہ سے بیٹھی تھی…
آیان اس کے قریب آیا… مگر باادب فاصلہ رکھتے ہوئے۔
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“اب کیسا لگ رہا ہے؟”
علیزہ نے ہلکے سے کہا،
“ٹھیک…”
پھر اچانک ہنسی روک کر بولی 😄
“بس… تھوڑا عجیب سا…”
---
آیان نے ہلکے مزاح میں کہا،
“عجیب اچھا یا عجیب مشکل؟”
علیزہ نے مسکرا کر کہا،
“اچھا والا…”
---
پھر وہ آہستہ سے بولی 😄
“اچھا… سنیں…hubby
آیان نے دیکھا،
“جی؟”
“ایسے سب کے سامنے نہ دیکھیں…” 😳
آیان ہلکا سا مسکرا دیا،
“ٹھیک ہے… میری چھوٹی سی doll” 🙂
---
یہ سن کر علیزہ ہنس پڑی 😄
“آپ بھی نا…hubbby
---
دور کھڑی مہر، عنایہ اور حورین سب دیکھ رہی تھیں 😆
عنایہ نے آہستہ سے کہا،
“اب تو یہ واقعی بدل گئی ہے”
---
ہال میں سادہ مگر بہترین کھانے کا انتظام تھا…
ہر چیز حلال اور باوقار انداز میں پیش کی گئی تھی۔
---
سارا ایک طرف کھڑی علیزہ کو دیکھ رہی تھی…
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے…
مگر اس بار یہ خوشی کے آنسو تھے۔
---
وجدان نے آہستہ سے کہا،
“اب وہ واقعی خوش ہے”
سارا نے سر ہلایا،
“الحمدللہ…”
---
رات آہستہ آہستہ گہری ہو
رہی تھی…
مگر اس رات نے دو زندگیوں کو…
ایک خوبصورت، پاک رشتے میں جوڑ دیا تھا۔
---
✨ جاری ہے…
---
Kya alizeh Ayan k naak me dam kardegi apni sharaton se Kya Ayan isko dantyga?? Yaan nhi wait for next dhamaky dar episode

Comments
Post a Comment
Please comment respectfully